ابنا: رامین مہمان پرست نے یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں مقامی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ریگي نامی بدنام زمانہ دہشتگرد گروہ کو مکمل طور سے سپورٹ کررھا ہے جبکہ طالبان کے ساتھ مذاکرات سے صاف ظاہر ہے کہ امریکہ اپنے مفادات کے مطابق دہشت گردی کی تعریف کرتا ہے۔انہوں نے امریکہ کے صدر باراک اوباما پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ اوباما نے دعوے کے تھے کہ وہ بین الاقوامی مسائل کے تعلق سے امریکی پالیسیوں میں بڑی تبدیلیاں لائيں گے لیکن انہوں نے ملکوں پر قبضہ کرنے اور ملکوں کےامور میں مداخلت کرنے کی پالیسی اپنائے رکھی اور آج بھی وہ اپنے ناجائز مفادات کے لئے دنیا میں جارحانہ اور مداخلت پسندانہ پالیسیوں پر قائم ہیں۔دہشت گردی اور غیر انسانی جرائم کے تعلق سے امریکہ ایک انتہائی بدنام ملک شمار ہوتا ہے۔حتی اس حوالے سے خود بعض امریکی قانون دان حضرات کی طرف سے مسلسل خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ رواں ماہ کی تین تاریخ کو امریکہ کے ایک ممتاز قانون داں اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن پال وولف پوری دنیا میں امریکہ کے مخالفین کو قتل کرنے کی غرض سے ایک خفیہ فوج کی سرگرمی کی بعض رپورٹوں کے بارے میں تشویش ظاہرکی ہے۔پال وولف نے پریس ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قوانین کے خلاف اور صدر کی زیر نگرانی کام کرنے والی فوج کی خفیہ سرگرمیاں باعث تشویش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کا طریقہ ویتنام جنگ کے دوران بھی استعمال کیا گيا تھا اور جس طرح ویتنام جنگ میں امریکہ کو اس سے کوئي مدد نہیں ملی اب بھی اس سے امریکہ کو کوئي فائدہ نہیں پہنچےگا۔ دوسری جانب امریکی وزارت جنگ کے ایک سابق عہدیدار مائیکل مالوف نے کہا ہے کہ امریکی فوج میں مشترکہ خصوصی آپریشن کے نام سے ایک خصوصی دستہ ہے جس کے پاس اپنی خفیہ جیلیں ہیں۔ مائیکل مالوف نے کہا کہ اس دستے نے بہت خاص تربیت حاصل کی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی فوج ان چیلنجوں سے مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتی جن کا امریکہ کو سامنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے سابق وزیر جنگ ڈونلڈ رمسفیلڈ کے ذریعہ تشکیل پانے والا یہ خصوصی اسکاڈ دوسرے ممالک میں خفیہ کارررائياں انجام دیتا ہے۔بہرحال جیسا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے کہا ہے امریکہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے اور اس کے اس کردار میں فی الحال کوئی تبدیلی آنی والی نہیں چنانچہ وائٹ ہاؤس نے رواں سال کی 29 جون کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی جس نئی قومی پالیسی کا اعلان کیا ہےاس کے تحت امریکہ کی فوجی سکیورٹی اور انٹیلی جنس سرگرمیاں القاعدہ ، اس کے حامیوں اور اس سے وابستہ گروہوں کو ختم کرنے پر مرکوز کی گئی ہیں، یعنی دنیا کے مختلف ملکوں میں امریکہ کی ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری رہےگا۔ اس نئی پالیسی کا پرانی پالیسی سے فرق یہ ہے کہ اس میں امریکہ کی داخلی سلامتی کو ترجیح دی گئی ہے جبکہ گزشتہ پالیسی میں یہ ترجیح شامل نہیں تھی۔ مثال کے طور پر القاعدہ کے خلاف جنگ کے تناظر میں اس نئی پالیسی میں امریکہ کے شہریوں یا وہاں مقیم باشندوں کو دہشت گردانہ حملوں کی ترغیب دینے کے سلسلے میں اس تنظیم کی توانائی کو ختم کرنے پر بظاہرخاص توجہ دی گئي ہے۔ اس پالیسی کو بنانے والوں نے اپنی پالیسی کا جواز پیش کرنے کیے ڈیٹروئیٹ جانے والے طیارے میں بم دھماکے کی ناکام کوشش کرنے والے کی جانب اشارہ کیا ہے کہ جو امریکی شہری تھا۔جان او برنان نے جو گزشتہ پچیس برسوں سے امریکہ کے مختلف سکیورٹی اداروں میں کام کر رہے ہیں، مزید کہا کہ امریکہ دنیا کے مختلف علاقوں میں سرگرم ہر دہشت گرد گروہ اور تنظیم کا مقابلہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ اس طرح انہوں نے یہ اطمینان دلانے کی کوشش کی کہ نئی پالیسی دنیا میں امریکی کی فوجی مداخلتوں میں اضافے کا باعث نہیں بنے گي۔ اس پالیسی کے اعلان اور اس کے ساتھ ہی اوباما کی جانب سے افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے اعلان سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اوباما حکومت دنیا میں اپنی فوجی مداخلت میں کمی لانا چاہتی ہے اور وہ امریکہ داخلی سلامتی پر اپنی توجہ مرکوز کرنا چاہتی ہے۔ لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں امریکہ کی نئی پالیسی پر ایک نظر ڈالنے سے یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ امریکہ نے دنیا میں فوجی مداخلت کے لیے راستے کھلے رکھے ہیں۔ امریکہ جس کے بارے میں امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ مختلف دہشت گرد گروہوں کا مجموعہ ہے ، یہ تنظیم دنیا کے مختلف ملکوں میں سرگرم عمل ہے۔ اس بنا پر القاعدہ کے خلاف جنگ ماضی کی مانند امریکہ کو یہ بہانہ فراہم کرتی ہے کہ وہ اس کا نام لے کر دنیا کے مختلف علاقوں میں اپنی فوجی اقدام کا جواز پیش کر سکے۔ اس کے علاوہ نئی پالیسی میں القاعدہ کے حامی ممالک بھی اس کے ساتھی شمار ہوتے ہیں اور اسی فہرست میں شامل ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ماضی کی طرح امریکہ کسی بھی ملک پر القاعدہ کے ساتھ تعاون کا الزام لگا کر اس پر فوجی حملہ کر دے گا یا کم از کم اسے ڈرا دھمکا کر اپنا مطلب نکالنے کی کوشش کرے گا۔ لیکن علاقے میں رونما ہونے وال نئی تبدیلیوں اور بیداری کی لہر نے امریکی اندازوں اور پالسیوں کو کافی حدتک مبھم کردیا ہے اور اوپر سے جو معاشی بحران نے امریکی اقتصاد کو بری طرح سے اپنے پنجوں میں جکڑ لیا ہے کہ جس کے پیش نظر کسی نئی جنگ کا تصور امریکیوں سے سلب ہوگیا ہے۔
.............. /169